مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، تو وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ”سبحان اللہ“ کہا، تو انھوں نے بھی ”سبحان اللہ“ کہا اور کھڑے رہے۔ جب نماز…

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، تو وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ”سبحان اللہ“ کہا، تو انھوں نے بھی ”سبحان اللہ“ کہا اور کھڑے رہے۔ جب نماز پوری کر لی اور سلام پھیر لیا، تو سہو کے دو سجدے کیے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ویسا ہی کیا تھا جیسا میں نے کیا ہے۔

زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، تو وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ”سبحان اللہ“ کہا، تو انھوں نے بھی ”سبحان اللہ“ کہا اور کھڑے رہے۔ جب نماز پوری کر لی اور سلام پھیر لیا، تو سہو کے دو سجدے کیے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ویسا ہی کیا تھا، جیسا میں نے کیا ہے۔

[صحیح] [اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔]

الشرح

اس حدیث میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے فعل کو بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ (ایک مرتبہ) نماز میں (کچھ) بھول گئے، ان کے پیچھے موجود مقتدیوں نے ”سبحان اللہ“ کہا، وہ سمجھ تو گئے، لیکن نماز مکمل کر لی اور سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ اور اپنے اس فعل کی نسبت رسول اللہ ﷺ کے فعل کی طرف کی۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ سجدۂ سہو سلام سے پہلے ہے، جیسا کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ کی روایت میں ہے۔ (متفق علیہ)

التصنيفات

سجدہ سہو، سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر