إعدادات العرض
جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کرلیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی۔
جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کرلیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی۔
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کرلیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی۔"
الترجمة
العربية অসমীয়া Bahasa Indonesia Kiswahili አማርኛ Tagalog Tiếng Việt ગુજરાતી Nederlands සිංහල Hausa پښتو ไทย नेपाली Кыргызча മലയാളം English Malagasy Svenska Română Kurdî Bosanski తెలుగు ქართული Moore Српски Magyar Português Македонски Čeština فارسیالشرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سچا مومن اور ایمان کو حرز جاں سمجھنے والا شخص اپنے دل میں بڑی کشادگی، وسعت، خوشی، حلاوت اور اللہ سے قریب ہونے کی لذت محسوس کرے گا؛ اگر وہ تین باتوں پر مطمئن ہو: 1- اللہ کو اپنا رب تسلیم کر کے مطمئن ہو۔ یعنی اپنے رب کی عطا کی ہوئی تمام چیزوں، جیسے روزی اور زندگی کے نشیب و فراز کو پورے شرح صدر کے ساتھ قبول کرے، اس تعلق سے دل میں کوئی کبیدگی اور اعتراض نہ پائے اور اللہ کے علاوہ کسی کو رب بنانے کی کوشش نہ کرے۔ 2- اسلام کو اپنا دین تسلیم کر کے مطمئن ہو اور اسلام کی عائد کردہ ذمے داریوں اور واجبات کو خوش دلی کے ساتھ قبول کرے اور اسلام کے راستے کو چھوڑ کوئی اور راستہ نہ ڈھونڈے۔ 3- محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو رسول مان کر مطمئن ہو۔ آپ کی لائی ہوئی تمام تعلیمات کو سر آنکھوں پر رکھے۔ شک و شبہ کو دل میں راہ پانے کا موقع نہ دے اور آپ کے طریقے کو حرز جاں سمجھے۔فوائد الحديث
جس طرح کھانے پینے کی چیزوں کی حلاوت اور لذت ہوا کرتی ہے، اسی طرح ایمان کی بھی حلاوت اور لذت ہوا کرتی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی حلاوت اور مزہ منہ سے محسوس کرتے ہيں اور ایمان کی حلاوت اور مزہ دل سے۔
جس طرح جسم کھانے پینے کی جیزوں کی حلاوت تندرستی کی حالت میں ہی محسوس کرتا ہے، اسی طرح دل بھی گمراہ کن خواہشات اور حرام شہوتوں سے محفوظ ہونے کی صورت میں ہی ایمان کی حلاوت محسوس کرتا ہے۔ بیمار دل ایمان کی حلاوت محسوس نہیں کرتا۔ بلکہ کبھی کبھی تو اسے ہلاکت خیز خواہشات اور گناہ کے کاموں ہی میں مزہ آنے لگتا ہے۔
جب انسان کسی چيز سے مطمئن ہو اور اسے بہتر جانے، تو اسے وہ چيز مشکل نہيں لگتی، آسان ہو جاتی ہے اور خوشیوں کی سوغات نظر آتی ہے۔ یہی حال مومن کا ہے۔ جب اس کے دل میں ایمان جاگزیں ہو جاتا ہے، تو اس کے لیے رب کے احکام کو بجا لانا آسان ہو جاتا ہے، رب کی بندگی میں مزہ آنے لگتا ہے اور اس راہ میں آنے والی پریشانیاں مشکل نہيں لگتیں۔
ابن قیم کہتے ہیں: اس حدیث کے اندر اللہ کی ربوبیت والوہیت پر مطمئن رہنے، اس کے رسول اور رسول کی پیروی پر مطمئن رہنے‘ اس کے دین پر مطمئن رہنے اور دین کی تعلیمات کو سر آنکھوں پر رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔
التصنيفات
ایمان کی زیادتی اور کمی