إعدادات العرض
’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
عبید اللہ بن عدی بن الخیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ ﷺ سے صدقہ میں سے مانگا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا، اور ہمیں مضبوط اور توانا پایا، پھر فرمایا: ’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
الترجمة
العربية Português دری Македонски Magyar Tiếng Việt ქართული বাংলা Kurdî ไทย অসমীয়া Nederlands ਪੰਜਾਬੀ Indonesia Kiswahili Hausa ភាសាខ្មែរ English ગુજરાતી Tagalog Русский मराठी മലയാളം Српски සිංහල ಕನ್ನಡ Türkçe हिन्दी తెలుగుالشرح
حجۃ الوداع کے موقع پر دو آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ انہیں بھی اس میں سے عطا فرمائیں، تو آپ ﷺ ان کی طرف بار بار دیکھنے لگے تاکہ ان کی حالت معلوم کریں کہ آیا ان کے لیے صدقہ حلال ہے یا نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہ دونوں تندرست اور توانا ہیں، اور فرمایا: ”اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں صدقے میں سے دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی ایسے شخص کا کوئی حصہ نہیں جس کے پاس اپنی ضرورت کے بقدر مال ہو، اور نہ ہی اس شخص کا جو کوشش کر کے مال کمانے پر قادر ہو، اگرچہ اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس کی بنا پر وہ امیر شمار ہوتا ہو۔“فوائد الحديث
مالدار یا کمانے پر قادر طاقتور کے لیے بھیک مانگنا حرام ہے۔
جس شخص کے مال کا علم نہ ہو، اس کے سلسلے میں اصل یہ ہے کہ وہ فقیر اور صدقے کا مستحق ہے۔
صرف قوت وطاقت کا ہونا صدقے کا غیر مستحق ہونے کو لازم نہیں کرتا، بلکہ اس کے ساتھ کمانے کی قدرت ہونا بھی ضروری ہے۔
جو شخص اپنی ضروریات کے بقدر کمانے پر قادر ہو، اس کے لیے فرض کردہ صدقہ (زکاۃ) لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ کمانے کی وجہ سے (زکاۃ سے) بے نیاز ہے، جس طرح مال دار شخص مال کی وجہ سے بے نیاز ہوتا ہے۔
مسلمان شخص کی عزتِ نفس، اور لینے، سوال کرنے اور کاہلی کے بجائے نوازنے کی عظیم نبوی تربیت۔
التصنيفات
مصارفِ زکوۃ