إعدادات العرض
انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قراءت کیسی تھی؟ تو انھوں نے فرمایا: ”مد والی تھی“
انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قراءت کیسی تھی؟ تو انھوں نے فرمایا: ”مد والی تھی“
قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قراءت کیسی تھی؟ تو انھوں نے فرمایا: ”مد والی تھی“، پھر انھوں نے بسم الله الرحمن الرحيم پڑھ کر سنائی؛ آپ بسم اللہ کو کھینچتے، الرحمن کو کھینچتے اور الرحیم کو کھینچتے تھے۔
الترجمة
العربية Português دری Македонски Tiếng Việt Magyar ქართული Indonesia বাংলা Kurdî ไทย অসমীয়া Nederlands Hausa ਪੰਜਾਬੀ Kiswahili Tagalog ភាសាខ្មែរ English ગુજરાતી සිංහල Русский मराठी മലയാളം ಕನ್ನಡ Српски Türkçe हिन्दी తెలుగుالشرح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ قرآن کیسے پڑھتے تھے؟ تو انھوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ کی قراءت مد والی تھی؛ آپ ﷺ الله کے لام کو، الرحمن کے میم کو اور الرحیم کی حا کو کھینچتے تھے۔“فوائد الحديث
مد سے مراد حروفِ مدہ یعنی الف، واو اور یاء کو کھینچ کر پڑھنا ہے، جب وہ ساکن ہوں اور ان سے پہلے ان کے مناسب حرکت ہو۔
تلاوتِ قرآن کے سلسلے میں نبی ﷺ کے طریقے کا بیان۔
نبی اکرم ﷺ کی قراءت کی کیفیت بیان کرنے کی عملی تطبیق۔
سندھی کہتے ہيں: ان کے قول ”يمد صوته مدًا“ سے مراد یہ ہے کہ وہ ان حروف کو دراز کرتے ہیں جو دراز کیے جانے کے لائق ہوں، تاکہ اس کے ذریعے تدبر وتفکر میں مدد حاصل کریں اور نصیحت قبول کرنے والوں کو یاد دہانی کرائیں۔
تجوید اور علوم قرآن جاننے کی اہمیت۔
نصوص کو سمجھنے کے لیے علماء کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے سائل کے لیے وضاحت فرما دی۔
التصنيفات
علمِ تجويد