إعدادات العرض
”اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا ہی توکّل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکّل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔ وہ صبح كو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور…
”اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا ہی توکّل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکّل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔ وہ صبح كو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔“
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا ہی توکّل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکّل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔ وہ صبح كو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔“
الترجمة
العربية Español አማርኛ English Indonesia বাংলা Français Türkçe Русский Bosanski සිංහල हिन्दी 中文 فارسی Tiếng Việt Tagalog Kurdî Hausa Português മലയാളം తెలుగు Kiswahili தமிழ் မြန်မာ ไทย Deutsch پښتو অসমীয়া Shqip Nederlands ગુજરાતી Кыргызча नेपाली Lietuvių دری Српски тоҷикӣ Kinyarwanda Magyar Čeština Moore Malagasy Oromoo ಕನ್ನಡ Wolof Azərbaycan O‘zbek Українська ქართული Македонски ភាសាខ្មែរ Bambara ਪੰਜਾਬੀ मराठी Kirundi Kurmancî Bahasa Melayuالشرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ہم دنیا اور دین سے متعلق تمام کاموں میں نفع حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے معاملے میں اللہ پر بھروسہ کریں۔ کیوں کہ عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، فائدہ پہنچانے والا اور نقصان کرنے والا بس اللہ ہی ہے۔ اسی طرح ہم اللہ پر بھروسہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے اسباب اختیار کریں، جن سے منفعتیں حاصل ہوں اور مضرتوں سے بچا جا سکے۔ جب ہم ایسا کریں گے تو اللہ ہمیں اسی طرح روزی دے گا، جس طرح پرندوں کو روزی دیتا ہے، جو صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس ہوتے ہيں۔ دراصل پرندوں کا صبح کے وقت نکلنا طلب رزق کی سعی کی ایک شکل ہی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں یا سستی سے کام لیں اور ان کو روزی مل جائے۔فوائد الحديث
اللہ پر بھروسہ کرنے کی فضیلت اور یہ کہ اللہ پر بھروسہ روزی حاصل کرنے کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔
اللہ پر بھروسہ اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے، کیوں کہ آپ نے بتایا ہے کہ روزی کی تلاش میں صبح اور شام نکلنا اللہ پر حقیقی توکل کے منافی نہیں ہے۔
شریعت نے دلوں کے اعمال پر بھی توجہ دی ہے، کیوں کہ اللہ پر بھروسہ دل کا عمل ہے۔
اسباب سے دل لگانے کا مطلب ہے کہ انسان کی دینداری میں کمی ہے، جب کہ اسباب ترک کر دینے کا مطلب ہے کہ انسان کی عقل مندی میں کمی ہے۔
