إعدادات العرض
رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی
رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی، مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وہ تکیہ جس پر آپ ﷺ ٹیک لگاتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی۔
الترجمة
العربية Português دری Македонски Magyar Tiếng Việt ქართული বাংলা Kurdî ไทย অসমীয়া Nederlands ਪੰਜਾਬੀ Indonesia Kiswahili ភាសាខ្មែរ English ગુજરાતી Hausa Tagalog Русский മലയാളം मराठी Српски සිංහල ಕನ್ನಡ Türkçe हिन्दी తెలుగుالشرح
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر جس پر آپ آرام فرماتے تھے، دباغت دیے ہوئے چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، اسی طرح آپ ﷺ کا تکیہ بھی تھا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔فوائد الحديث
نبی ﷺ کے زہد اور دنیا کی لذتوں سے اعراض برتنے کا بیان، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کو اس پر قدرت بخشی تھی کہ اگر آپ چاہتے تو اس سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔
بستر اور تکیوں کا استعمال کرنا، ان پر سونا اور ان پر ٹیک لگانا جائز ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی حالت اور طرزِ زندگی کا اپنے نبی ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے موازنہ کرے، کیونکہ آپ ﷺ ہی اسوہ حسنہ ہیں، اور جس نے آپ ﷺ کے نقش قدم کی پیروی کی وہ ہدایت یاب ہوا اور دنیا وآخرت میں فلاح پا گیا۔
آخرت کی تیاری کی فکر کرنا، اور یہ کہ مومن اسی قدر دنیاوی نعمت پر اکتفا کرے جو اسے اللہ کی اطاعت میں مدد دے اور بہت زیادہ دنیا طلبی میں مشغول نہ رہے۔ اللہ نے ایک قوم کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے: (زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے)۔ [التكاثر:1- 2]
