إعدادات العرض
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔
[صحيح] [رواه أحمد والبيهقي]
الترجمة
العربية Português دری Македонски Magyar Tiếng Việt ქართული Kurdî বাংলা ไทย অসমীয়া Nederlands ਪੰਜਾਬੀ Indonesia Kiswahili ភាសាខ្មែរ English ગુજરાતી Hausa Tagalog Русский മലയാളം मराठी Српски සිංහල ಕನ್ನಡ Türkçe हिन्दी తెలుగుالشرح
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کسی قوم سے اس وقت تک قتال نہیں کرتے تھے، جب تک کہ پہلے انہیں اسلام کی دعوت نہ دے دیتے۔ پھر اگر وہ دعوت قبول نہ کرتے تو آپ ان سے قتال کرتے۔فوائد الحديث
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینا اس صورت میں مشروط ہے جب ان تک اسلام نہ پہنچا ہو۔
نبی ﷺ انہیں اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اگر وہ انکار کر دیتے، تو آپ ان کے سامنے جزیہ کی پیش کش رکھتے۔ اگر وہ اس سے بھی انکار کرتے، تو آپ ان سے جنگ کرتے، جیسا کہ دیگر احادیث میں آیا ہے۔
جہاد کی حکمت لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا ہے، نہ کہ ان کی جانوں، مالوں اور ملکوں کو تباہ کرنا۔
التصنيفات
جہاد کے احکام اور مسائل