إعدادات العرض
اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا…
اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔»
الترجمة
العربية Português دری Македонски Magyar Tiếng Việt ქართული বাংলা Kurdî ไทย অসমীয়া Nederlands ਪੰਜਾਬੀ Indonesia Kiswahili Hausa ភាសាខ្មែរ English ગુજરાતી Tagalog Русский मराठी മലയാളം Српски සිංහල ಕನ್ನಡ Türkçe हिन्दी తెలుగుالشرح
نبی ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آجاتا ہے جس طرح انسانوں کو آتا ہے۔ لہذا جس کسی مومن کو میں نے تکلیف دی ہو، یا اسے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت بھیجی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اس عمل کو اس کے لیے پاکیزگی، قربت، گناہوں سے صفائی، کفارہ اور ایسی رحمت بنا دے جس کے سبب تو اس پر رحم فرمائے۔فوائد الحديث
اللہ کے نبی ﷺ کا عظیم اخلاق۔
ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث سے اپنی امت پر آپ ﷺ کی کمالِ شفقت، آپ کا حسنِ اخلاق اور آپ کی ذات کا کرم معلوم ہوتا ہے، کہ آپ ﷺ نے آپ سے سرزد ہونے والے فعل کے جواب میں دل جوئی اور تکریم کا قصد فرمایا۔
نووی کہتے ہیں: اگر یہ سوال کیا جائے کہ آپ ﷺ کسی ایسے شخص کو کیسے بد دعا دے سکتے ہیں، یا اسے برا بھلا کہہ سکتے ہیں، یا اس پر لعنت بھیج سکتے ہیں جو اس کا اہل نہ ہو؟ تو اس کا جواب وہی ہے جو علماء نے دیا ہے، اور اس کی دو توجیہات ہیں: پہلی توجیہ یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص حقیقت میں اللہ تعالی کے نزدیک اس کا اہل نہیں ہوتا، لیکن بظاہر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ کے سامنے کسی شرعی علامت کی بنا پر اس کا مستحق ہونا ظاہر ہو جاتا ہے، جب کہ درحقیقت وہ اس کا اہل نہیں ہوتا۔ جبکہ نبی ﷺ کو ظاہر پر حکم لگانے کا حکم دیا گیا ہے، اور باطنی امور اللہ کے سپرد ہیں۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کا کسی کو برا بھلا کہنا یا بد دعا دینا وغیرہ مقصود نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ عربوں کی عادت کے مطابق تکیہ کلام کے طور پر بغیر کسی نیت کے ہوتا تھا، جیسے ان کا کہنا: تَرِبَت يمينك (تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں)، عَقْرَى حَلْقَى (تو ہلاک ہو جا)۔ اور اسی حدیث میں آیا ہے: (لا كبرت سنك) (تیری عمر دراز نہ ہو)، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: (لا أشبع الله بطنك) (اللہ تیرا پیٹ نہ بھرے) وغیرہ۔ ان کلمات سے ان کا مقصد حقیقی بد دعا دینا نہیں ہوتا تھا۔ نبی ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ان میں سے کوئی بات قبولیت کی گھڑی سے موافق نہ ہو جائے، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے رب سبحانہ وتعالی سے سوال کیا اور درخواست کی کہ وہ اسے رحمت، کفارہ، قربت کا ذریعہ، پاکیزگی اور اجر بنا دے۔ ایسا آپ ﷺ سے کبھی کبھار ہی ہوتا تھا، اور نبی ﷺ نہ تو فحش گو تھے، نہ جان بوجھ کر فحش کلامی کرنے والے تھے، نہ بہت زیادہ لعنت کرنے والے تھے اور نہ ہی اپنی ذات کے لیے بدلہ لینے والے تھے۔
التصنيفات
اخلاقی صفات