آدمی کی اپنے بھائی کےحق میں پس پشت دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر پر ایک فرشتہ متعین ہوتا ہے اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیرکرتا ہے تو اس پر یہ متعین کردہ فرشتہ…

آدمی کی اپنے بھائی کےحق میں پس پشت دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر پر ایک فرشتہ متعین ہوتا ہے اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیرکرتا ہے تو اس پر یہ متعین کردہ فرشتہ کہتا ہے: ’آمین، اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو‘۔

ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی اپنے بھائی کےحق میں پیٹھ پیچھے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر پر ایک فرشتہ متعین ہوتا ہے اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیرکرتا ہے تو اس پر یہ متعین کردہ فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو“۔

[صحیح] [اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]

الشرح

مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا اللہ کے ہاں مقبول ہوتی ہے۔ جب بندہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اس کے سر پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: آمین، اور تیرے نصیب میں بھی وہی خیر ہو جس کی دعا تو نے اپنے بھائی کے لیے کی ہے۔

التصنيفات

فرشتوں پر ایمان, دعا کی فضیلت