’’خبردار! تم سب کے سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، لہٰذا تم میں سے کوئی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے

’’خبردار! تم سب کے سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، لہٰذا تم میں سے کوئی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مسجد میں معتکف تھے، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے سنا تو پردہ اٹھایا اور فرمایا: ’’خبردار! تم سب کے سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، لہٰذا تم میں سے کوئی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے اور نہ کوئی قراءت میں اپنی آواز دوسرے پر بلند کرے۔‘‘ یا فرمایا: ’’نماز میں‘‘۔

[صحيح] [رواه أبو داود]

الشرح

نبی ﷺ اپنی مسجد کے اندر ایک خیمے میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے معتکف تھے، تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو بہت اونچی آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے سنا، جس سے وہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچا رہے تھے۔ چنانچہ آپ نے خیمے سے پردہ ہٹایا اور ایسا کرنے والے کو ملامت کی اور اس پر عتاب فرمایا۔ پھر فرمایا: ”تم سب قرآن پڑھ کر اپنے رب سے مناجات کرتے ہو، لہٰذا تم میں سے کوئی دوسرے کو ایذا نہ دے، اور نہ کوئی قراءت میں یا نماز میں اپنی آواز دوسرے پر بلند کرے۔“

فوائد الحديث

قرآن کی تلاوت میں آواز بلند کرنے کی ممانعت، اگر اس سے کسی کو اذیت پہنچ رہی ہو۔

اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو تلاوتِ قرآن کے آداب سکھائے۔

التصنيفات

تلاوت قرآن کے آداب