میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا کہ آپ ﷺ دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لیتا۔

میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا کہ آپ ﷺ دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لیتا۔

سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا کہ آپ ﷺ دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لیتا۔

[صحيح] [رواه مسلم]

الشرح

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب نبی ﷺ اپنی نماز سے سلام پھیرتے تو پہلے سلام کے لیے دائیں جانب اور دوسرے سلام کے لیے بائیں جانب اس قدر مڑتے کہ وہ آپ ﷺ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لیا کرتے تھے۔

فوائد الحديث

دائیں اور بائیں جانب مڑنے میں مبالغہ کرنے کی مشروعیت۔

دائیں اور بائیں طرف دو سلام پھیرنے کی مشروعیت۔

امام نووی کہتے ہیں: اگر کوئی دونوں سلام دائیں طرف یا بائیں طرف یا چہرے کے سامنے پھیر لے، یا پہلا سلام بائیں طرف اور دوسرا دائیں طرف پھیر لے، تو اس کی نماز صحیح ہو جائے گی اور دونوں سلام بھی ادا ہو جائیں گے، لیکن ان دونوں کے طریقے کی فضیلت فوت ہو جائے گی۔

التصنيفات

نماز کی سنتیں, نماز کا طریقہ