إعدادات العرض
”تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی ہو
”تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی ہو
امیر المؤمنين ابو حفص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی ہو۔ چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف سمجھی جائے گی، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہے تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے سمجھی جائے گی، جس کے لیےاس نے ہجرت کی ہے۔“
الترجمة
العربية Español አማርኛ English Indonesia বাংলা Français Türkçe Русский Bosanski සිංහල हिन्दी 中文 فارسی Tiếng Việt Tagalog Kurdî Hausa Português മലയാളം తెలుగు Kiswahili தமிழ் မြန်မာ ไทย Deutsch پښتو অসমীয়া Shqip Nederlands ગુજરાતી Кыргызча नेपाली Lietuvių دری Српски тоҷикӣ Kinyarwanda Română Magyar Čeština Moore Malagasy Oromoo ಕನ್ನಡ Wolof Azərbaycan O‘zbek Українська ქართული Македонски ភាសាខ្មែរ Bambara ਪੰਜਾਬੀ मराठी Kirundi Kurmancî Bahasa Melayuالشرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سارے اعمال کا اعتبار نیت کی بنیاد پر ہے۔ یہ حکم عبادات اور معاملات جیسے سبھی اعمال کے لیے عام ہے۔ جو شخص کسی منفعت کے پیش نظر کوئی کام کرے گا، اسے ثواب نہیں، بلکہ بس وہی منفعت حاصل ہوگی اور جو اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کوئی کام کرے گا، اسے اپنے عمل کا ثواب ملے گا، چاہے وہ عمل کھانے اور پینے جیسا معمول کے مطابق کیا جانے والا کام ہی کیوں نہ ہو۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اعمال پر نیت کے اثر کو بیان کرنے کے لیے ایک مثال پیش کی، جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ عمل کی ظاہری شکل ایک ہونے کے باوجود ملنے والا نتیجہ الگ الگ ہے۔ آپ نے بتایا کہ جس نے ہجرت اور اپنا وطن چھوڑنے کے پیچھے نیت یہ رکھی کہ اللہ کی خوش نودی حاصل ہوجائے، اس کی ہجرت دینی ہجرت ہے اور اسے اس کی صحیح نیت کی وجہ سے ثواب ملے گا۔ اس کے برخلاف جس نے ہجرت کرتے وقت دنیوی منفعت، جیسے مال و دولت، عہدہ و منصب، تجارت اور شادی وغیرہ کو پیش نظر رکھا، اسے بس وہی منفعت حاصل ہوگی، جسے حاصل کرنے کی اس نے نیت کی تھی۔ اجر و ثواب اور نیکی اس کے حصے میں نہيں آئے گی۔فوائد الحديث
اخلاص کی ترغیب، کیوں کہ اللہ بس اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جسے اس کی خوش نودی حاصل کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہو۔
جن اعمال کے ذریعے اللہ عز و جل کا تقرب حاصل کیا جا سکتا ہے، ان کو اگر کوئی شخص عادت کے طور پر کرتا ہے، تو اسے ان کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ ان کا اجر و ثواب اسی وقت ملے گا، جب ان کو اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔
نیت ہی کی بنیاد پر عباتوں کے درمیان فرق اور عبادت کو عادت سے الگ کیا جاتا ہے۔
