ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔

ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔

جُندُب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔

[صحيح] [رواه ابن ماجه]

الشرح

جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم طاقت ور اور مضبوط، قریب البلوغ نوجوان تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے نبی ﷺ سے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارے ایمان میں اور اضافہ ہو گیا۔

فوائد الحديث

ایمان میں کمی و زیادتی کا بیان

نوجوان نسل کی تربیت کے وقت ترجیحات کا تعین، اور اس بات کی کوشش کہ ان کے دلوں کو ایمان سے آباد کیا جائے۔

قرآن ایمان میں اضافہ کرتا ہے، اس سے دل منور اور سینہ کشادہ ہوتا ہے۔

التصنيفات

قرآن کی قراءت اور اس کے حفاظ سے متعلق آداب, ایمان کی زیادتی اور کمی