کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا

کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا

ابن ابی مُلَیکَہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے -ابو عامر کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: میرے خیال میں وہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں- کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”تم لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔“ ان سے عرض کیا گیا کہ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی۔ ابو عامر کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: پھر ابن ابی مُلَیکَہ نے ہمیں {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} پڑھ کر سنایا، پھر {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} پر ٹھہرے، پھر {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} پر ٹھہرے۔

[صحيح] [رواه أحمد]

الشرح

ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قرأتِ قرآن کیسی تھی؟ اس پر انہوں نے کہا: تم لوگ اس جیسی قراءت نہیں کر سکتے، تو ان سے کہا گیا: ہمیں بتا دیجیے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن ابی مُلَیکَہ نے نبی ﷺ کی قراءت کا طریقہ بیان کرنے کے لیے ہمارے سامنے ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی، چنانچہ انہوں نے پڑھا: {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}، پھر ٹھہر گئے، {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، پھر ٹھہر گئے، {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}۔

فوائد الحديث

قرآن کریم کی تلاوت میں نبی ﷺ کے طریقے کا بیان۔

نبی اکرم ﷺ کی قراءت کی کیفیت کا عملی بیان۔

قرآن کی قراءت میں ترتیل کی مشروعیت، کیونکہ یہ قرآن میں تدبر کا زیادہ باعث ہے۔

قرآن کریم اور نبی ﷺ کے عمل کے تئیں سلف صالحین کا اہتمام۔

تجوید اور علومِ قرآن جاننے کی اہمیت۔

التصنيفات

علمِ تجويد