إعدادات العرض
”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“
”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“
[حسن] [رواه أبو داود]
الترجمة
العربية Português دری Македонски Magyar ქართული Tiếng Việt বাংলা Kurdî ไทย অসমীয়া Indonesia Nederlands ਪੰਜਾਬੀ Kiswahili Hausa ភាសាខ្មែរ English Tagalog ગુજરાતી Русский मराठी മലയാളം ಕನ್ನಡ Српски සිංහල Türkçe हिन्दी తెలుగుالشرح
نبی ﷺ نے عورت کے ولی اور ذمہ دار کو عورتوں کو مساجد سے روکنے سے منع فرمایا، اور عورتوں کو حکم دیا کہ نکلتے وقت خوشبو نہ لگائیں اور زینت کا اظہار نہ کریں؛ تاکہ وہ مردوں کے لیے فتنے کا سبب نہ بنیں۔فوائد الحديث
اگر فتنہ کا خوف نہ ہو اور عورت زیب وزینت اور خوشبو کے بغیر نکلے، تو اسے مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے باہر نہ نکلے، کیونکہ اجازت دینے کا حکم شوہروں کو دیا گیا ہے۔
اسلام نے عورتوں کا خاص خیال رکھا ہے، اور انہیں ان امور سے منع نہیں کیا جن میں ان کے لیے خیر و بھلائی ہو، جیسے طلبِ علم وغیرہ کے لیے باہر نکلنا۔
عورت پر مرد کی سرپرستی اور اس کی نگرانی کا ثبوت۔
