إعدادات العرض
اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو…
اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو قسم کھانی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو قسم کھانی ہے۔"
[حسن] [اسے بیہقی وغیرہ نے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس حدیث کا کچھ حصہ صحیحین میں بھی مروی ہے۔]
الترجمة
العربية Español አማርኛ English Indonesia বাংলা Français Türkçe Русский Bosanski සිංහල हिन्दी 中文 فارسی Tiếng Việt Tagalog Kurdî Hausa Português മലയാളം తెలుగు Kiswahili தமிழ் မြန်မာ ไทย Deutsch پښتو অসমীয়া Shqip Nederlands ગુજરાતી Кыргызча नेपाली Lietuvių دری Српски тоҷикӣ Kinyarwanda Magyar Čeština Moore Malagasy Oromoo ಕನ್ನಡ Wolof Azərbaycan O‘zbek Українська ქართული Македонски ភាសាខ្មែរ ਪੰਜਾਬੀ मराठी Kirundi Kurmancî Bahasa Melayuالشرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اگر لوگوں کو دلائل اور قرائن کی پڑتال کیے بغیر محض ان کے دعوے کی بنیاد پر دیا جانے لگے، تو کچھ لوگ لوگوں کے اموال اور جان تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لہذا مدعی کو اپنے دعوے کی دلیل پیش کرنے ہوگی۔ اگر اس کے پاس دلیل نہ ہو، تو دعوے کو مدعی علیہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ اگر اس نے انکار کر دیا، تو اسے قسم کھانی ہوگی۔ اس کے بعد وہ بری ہو جائے گا۔فوائد الحديث
ابن دقیق العید کہتے ہيں: یہ حدیث اسلامی احکام کے ایک بنیادی اصول اور تنازع و جھگڑے کے وقت ایک عظیم ترین مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
شریعت اسلامی کا ایک بنیادی مقصد جان ومال کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی راہ کو بند کرنا اور جان ومال کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
قاضی اپنے علم کی روشنی میں نہیں بلکہ دلائل کی روشنی میں فیصلہ کرے گا۔
بلا دلیل دعوی قابل قبول نہيں ہے۔ دعوی کا تعلق چاہے حقوق و معاملات سے ہو یا ایمان و علم کے مسائل سے۔
التصنيفات
دعوى جات اور ثبوت/ مقدمات اور ثبوت