”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“

”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ جب انہیں اعمال کا حکم دیتے تو انہی کا حکم دیتے جن کی وہ طاقت رکھتے تھے۔ صحابہ عرض کرتے: ”اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں“۔ اس پر آپ ﷺ غضب ناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرۂ مبارک پر نمایاں ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: ”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“

[صحيح] [رواه البخاري]

الشرح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ جب لوگوں کو کسی عمل کا حکم دیتے تو انہیں اسی کام کا حکم دیتے جو ان کے لیے آسان ہوتا، نہ کہ مشکل کام کا؛ اس اندیشے سے کہ کہیں وہ اس پر ہمیشگی اختیار کرنے سے عاجز نہ ہو جائیں۔ آپ ﷺ خود بھی اسی آسانی پر عمل فرماتے جس کا آپ ﷺ انہیں حکم دیتے تھے۔ لیکن صحابہ نے آپ ﷺ سے مشقت والے کاموں کا مکلف بنانے کی درخواست کی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ آپ ﷺ کے برعکس انہیں بلند درجات حاصل کرنے کے لیے عمل میں مبالغہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ صحابہ عرض کرتے: یا رسول اللہ! ہمارا حال آپ کے جیسا نہیں ہے، بے شک اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ غضبناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ظاہر ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: بے شک تم میں سب سے زیادہ متقی اور اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہی ہوں۔ لہذا وہی کرو جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔

فوائد الحديث

ابن حجر نے فرمایا: آپ ﷺ نے انہیں اسی عمل کا حکم دیا جو ان کے لیے آسان ہو، تاکہ وہ اس پر مداومت برتیں، جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے: اللہ کے نزدیک سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی برتی جائے۔

نیک وصالح آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے نیک ہونے پر بھروسہ کر کے عمل میں جد وجہد سے دست کش نہ ہو۔

کسی شخص کا حسبِ ضرورت اپنی فضیلت بیان کرنا جائز ہے، جب فخر اور تکبر کا خوف نہ ہو۔

عبادت میں اولیٰ میانہ روی اور ہمیشگی ہے، نہ کہ ایسی مبالغہ آمیزی جو ترک کا باعث بنے۔

ابن حجر کہتے ہیں: بندہ جب عبادت اور اس کے ثمرات میں انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو یہ اسے اس عمل پر ہمیشگی اختیار کرنے پر مزید آمادہ کرتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نعمت باقی رہتی ہے اور اس پر شکر کرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔

شرعی حکم کی مخالفت پر غضہ ہونے کی مشروعیت، اور فہمِ معنی کے اہل ذہین وفطین شخص کے فہم میں کوتاہی کرنے پر اس کی نکیر کرنا، تاکہ اسے بیدار مغزی پر ابھارا جائے۔

اپنی امت پر نبی ﷺ کی شفقت، دین کی آسانی اور شریعت کی رواداری اور وسعت۔

صحابہ کرام عبادت میں شدید رغبت رکھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ خیر حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔

شارع کی مقرر کردہ عزیمت اور رخصت کی حد پر ٹھہرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ شریعت کے موافق آسان ترین بات پر عمل کرنا، اس مشکل ترین کام سے اولیٰ ہے جو اس کے مخالف ہو۔

التصنيفات

ہمارے نبی محمدﷺ, شرعی حکم, The Sunnah, نیک اعمال کے فضائل