إعدادات العرض
’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے
’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان پانچ باتیں کہنے کے لیے کھڑے ہوئے، اور فرمایا: ’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے، وہ ترازو کو جھکاتا اور اٹھاتا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کے پاس پیش کیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے -اور ایک روایت میں: آگ ہے- اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال وجمال ان تمام مخلوقات کو جلا دے گا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے گی‘‘۔
الترجمة
العربية Português دری Македонски Tiếng Việt Magyar ქართული Indonesia বাংলা Kurdî ไทย অসমীয়া Nederlands Hausa ਪੰਜਾਬੀ Kiswahili Tagalog ភាសាខ្មែរ English ગુજરાતી සිංහල Русский मराठी മലയാളം ಕನ್ನಡ Српски Türkçe हिन्दी తెలుగుالشرح
نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو خطبہ دیتے ہوئے پانچ مکمل جملے ارشاد فرمائے، جو یہ ہیں: پہلاجملہ: اللہ عزوجل سوتا نہیں ہے۔ دوسرا جملہ: اس کی کامل قیّومیت اور مکمل حیات کی وجہ سے اس کے حق میں نیند محال ہے۔ تیسرا جملہ: اللہ تعالیٰ میزان کو جھکاتا اور اٹھاتا ہے؛ بندوں کے ان اعمال کے وزن کے ذریعے جو اس کی طرف بلند ہوتے اور چڑھتے ہیں اور ان کی روزیوں کے وزن کے ذریعے جو زمین کی طرف نازل ہوتی ہیں۔ چنانچہ رزق جو ہر مخلوق کا حصہ اور نصیب ہے، اللہ سبحانہ اسے پست کرکے تنگ کردیتا ہے اور بلند کرکے کشادہ کردیتا ہے۔ چوتھا جملہ: بندوں کے رات کے اعمال اگلے دن سے پہلے اور دن کے اعمال اگلی رات سے پہلے اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں؛ چنانچہ نگہبان فرشتے رات کے اعمال اس کے ختم ہونے پر دن کے شروع میں، اور دن کے اعمال اس کے ختم ہونے پر رات کے شروع میں اوپر لے جاتے ہیں۔ پانچواں جملہ: اللہ سبحانہ و تعالی کا حجاب جو اس کے دیدار سے مانع ہے، نور ہے یا آگ۔ اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ ساری مخلوقات جل کر خاک ہوجائیں؛ چنانچہ اس کے چہرے کی تجلیات اس کا نور، اس کا جلال اور اس کی شان ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اپنے دیدار سے مانع چیز یعنی حجاب کو ہٹا دے اور اپنی مخلوق پر تجلی فرمائے، تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ اس کی ساری مخلوق جل کر خاک ہوجائے؛ اور اس سے مراد تمام مخلوقات ہیں؛ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کی نگاہ تمام مخلوقات کو محیط ہے۔فوائد الحديث
اللہ سبحانہ و تعالی کے لئے سونے کے محال ہونے کا بیان، کیونکہ یہ نقائص میں سے ہے اور اللہ ان سے پاک ہے۔
اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے، اور جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے۔
اعمال ہر دن اور ہر رات اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، اس میں بندوں کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اپنے شب وروز میں اللہ عز وجل کو نگہبان جانیں۔
یہ حدیث اللہ سبحانہ کے عدل اور اپنی مخلوق کے امور سے متعلق اس کے حسنِ تدبیر پر دلالت کرتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ جل وعلا کی صفاتِ کمال میں سے ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے حجاب کا ثبوت، یہ وہ نور ہے جو اس کے اور اس کی مخلوق کے درمیان حائل ہے، اگر یہ نہ ہوتا تو وہ جل کر خاک ہو جاتے۔
آجُرِّی کہتے ہيں: "اہل حق اللہ کے عز و جل کے وہی اوصاف بیان کرتے ہیں جو خود اللہ تبارک و تعالی نے بیان کیے ہیں، اس کے رسول ﷺ نے بیان کیے ہیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیان کیے ہیں۔ یہی اتباع سنت کے علم بردار اور بدعت سے گریزاں رہنے والے علما کا مسلک ہے۔" چنانچہ اہل سنت اللہ تبارک و تعالی کے انھیں اسما وصفات کو ثابت کرتے ہیں جنھیں خود اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے۔ وہ بھی تحریف، تعطلیل، تکییف اور تمثیل سے دامن بچاتے ہوئے۔ نیز اللہ کی ذات سے ان اسما وصفات کی نفی کرتے ہیں، جن کی نفی اس نے خود کی ہے اور جن اسما وصفات کے بارے میں نفی واثبات کچھ نہیں وارد ہو، ان کے بارے میں خاموش رہتے ہيں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: "اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے"۔
وہ نور جو اللہ سبحانہ تعالی کا وصف ہے، اس نور سے الگ ہے جس کے ذریعہ اس نے حجاب اختیار کیا ہے۔ وہ نور جس سے اس نے حجاب اختیار کیا ہے، ایک مخلوق نور ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا نور تو ایسا نور ہے جو اس کی ذات کے شایان شان ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور نبی ﷺ نے جو دیکھا تھا وہ تو بس وہی حجاب تھا جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان حائل ہے۔
