إعدادات العرض
ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔
ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔"
[صحیح] [متفق علیہ]
الترجمة
العربية অসমীয়া Bahasa Indonesia Kiswahili አማርኛ Tagalog Tiếng Việt ગુજરાતી Nederlands සිංහල Hausa پښتو ไทย नेपाली Кыргызча മലയാളം English Malagasy Svenska Română Kurdî Bosanski हिन्दी فارسی తెలుగు ქართული Moore Српски Magyar Português Македонски Češtinaالشرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ ہر اذان و اقامت کے درمیان نفل نماز ہے۔ اس جملے کو آپ نے تین بار دہرایا۔ تیسری بار آپ نے یہ اضافہ بھی فرمایا کہ یہ اس شخص کے لیے مستحب ہے، جو نماز پڑھنا چاہے۔فوائد الحديث
اذان و اقامت کے درمیان نماز پڑھنا مستحب ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بات کو دہرایا کرتے تھے، تاکہ سامعین اچھی طرح سن لیں اور کہی گئی بات کی اہمیت پر زور دیا جا سکے۔
یہاں دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔ ان کو "دو اذان" تغليبًا کہا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عرب کے لوگ سورج اور چاند کو "قمرین" اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو "عمرین" کہتے ہيں۔
اذان وقت داخل ہونے کا اعلان ہے۔ جب کہ اقامت نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہونے کا اعلان ہے۔