إعدادات العرض
آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں
آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں
ابو عبد اللہ جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور اس سے زیادہ کوئی عمل نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“۔
[صحيح] [رواه مسلم]
الترجمة
العربية Español አማርኛ English Indonesia বাংলা Français Türkçe Русский Bosanski සිංහල हिन्दी 中文 فارسی Tiếng Việt Tagalog Kurdî Hausa Português മലയാളം తెలుగు Kiswahili தமிழ் မြန်မာ ไทย Deutsch پښتو অসমীয়া Shqip Nederlands ગુજરાતી Кыргызча नेपाली Lietuvių دری Српски тоҷикӣ Kinyarwanda Română Magyar Čeština Moore Malagasy Oromoo ಕನ್ನಡ Wolof Azərbaycan O‘zbek Українська ქართული Македонски ភាសាខ្មែរ Bambara ਪੰਜਾਬੀ मराठी Kirundi Kurmancî Bahasa Melayuالشرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی کہ جو شخص پانچ وقت کی فرض نمازوں کی پابندی کرے اور نوافل نہ پڑھے، رمضان کے روزے رکھے اور نفلی روزے نہ رکھے، حلال کو حلال سمجھ کر انجام دے اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔فوائد الحديث
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو فرائض کی انجام دہی اور محرمات سے کنارہ کشی کا حریص رہنا چاہیے اور اس کا مقصد صرف دخول جنت سے سرفرازی ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے حلال کام کو انجام دینے اور اس کی حلت کا عقیدہ رکھنے اور حرام کام سے بچتے رہنے اور اس کی حرمت کا عقیدہ رکھنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے دوری جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے۔
