”جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ سیکھا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ وہ جتنا زیادہ علمِ نجوم سیکھے گا، اتنا ہی زیادہ جادو سیکھے گا“۔

”جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ سیکھا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ وہ جتنا زیادہ علمِ نجوم سیکھے گا، اتنا ہی زیادہ جادو سیکھے گا“۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ سیکھا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ وہ جتنا زیادہ علمِ نجوم سیکھے گا، اتنا ہی زیادہ جادو سیکھے گا“۔

[صحیح]

الشرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے ستاروں اور برجوں، ان کی حرکات، ان کے داخل ہونے اور نکلنے کی کیفیت پر غور کرکے روئے زمین پر مستقبل میں واقع ہونے والے حادثات، جیسے زندگی، موت اور بیماری وغیرہ، پر اثر پڑنے کا علم حاصل کیا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ انسان یہ علم جتنا زیادہ حاصل کرتا جائے گا، وہ جادو کا اتنا زیادہ علم حاصل کرتا جائے گا۔

فوائد الحديث

ستاروں کے احوال کو دیکھ کر پیشین گوئی کرنا حرام ہے، کیوں کہ یہ غیبی علم کا دعوے میں شامل ہے۔

ستاروں کے احوال دیکھ کر پیشین گوئی کرنا ایک طرح کا جادو ہے، جو کہ توحید کے منافی ہے۔ جب کہ جہت، قبلہ اور موسم اور مہینہ کے داخل ہونے کی جان کاری حاصل کرنے کے لیے ستاروں کو دیکھنا مباح ہے۔

انسان علم نجوم جتنا زیادہ حاصل کرتا جائے گا، وہ اتنا زیادہ جادو کا علم حاصل کرتا جائے گا۔

اللہ نے اپنی کتاب میں ستاروں کے تین فوائد بیان کیے ہيں: یہ آسمان کی زینت ہیں، یہ علامتیں ہیں جن سے رہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے اور شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ ہيں۔

التصنيفات

نواقضِ اسلام (اسلام سے خارج کردینے والے امور)