إعدادات العرض
نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔
نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔
ابو سعید سعد بن مالک بن سنان الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔"
[حسن] [اسے ابن ماجہ اور دار قطنی وغیرہ نے مسنداً روایت کیا ہے۔]
الترجمة
العربية Español አማርኛ English Indonesia বাংলা Français Türkçe Русский Bosanski සිංහල हिन्दी 中文 فارسی Tiếng Việt Tagalog Kurdî Hausa Português മലയാളം తెలుగు Kiswahili தமிழ் မြန်မာ ไทย Deutsch پښتو অসমীয়া Shqip Nederlands ગુજરાતી Кыргызча नेपाली Lietuvių دری Српски тоҷикӣ Kinyarwanda Magyar Čeština Moore Malagasy Oromoo ಕನ್ನಡ Wolof Azərbaycan O‘zbek Українська ქართული Македонски ភាសាខ្មែរ Bambara ਪੰਜਾਬੀ मराठी Kirundi Kurmancî Bahasa Melayuالشرح
اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ خود اپنے نفس کو اور دوسروں کو کسی بھی طرح کا ضرر پہنچانے سے بچنا ضروری ہے۔ نہ تو خود کو اذیت دینا جائز ہے اور نہ کسی اور کو اذیت دینا جائز ہے۔ دونوں ہی باتیں ناجائز ہيں۔ کسی کے لیے بھی ضرر کے مقابلے میں ضرر پہنچانا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ ضرر کا ازالہ ضرر کے ذریعے قصاص کے علاوہ کہیں اور جائز نہيں ہے۔ یہ بھی اس وقت جائز ہے جب ظلم وتعدی نہ ہو۔فوائد الحديث
جتنا نقصان پہنچایا گیا ہو اس سے زیادہ بدلہ لینا جائز نہيں ہے۔
اللہ نے اپنے بندوں کو کسی ایسے کام کا حکم نہيں دیا ہے، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔
یہ حدیث ضرر رسانی کی حرمت کے سلسلے میں ایک قاعدے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضرر رسانی قول کے ذریعے ہو، فعل کے ذریعے ہو یا ترک کے ذریعے۔
شریعت کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ ضرر کو زائل کیا جائے گا۔ لہذا شریعت ضرر کو قبول نہيں کرتی، بلکہ اسے رد کرتی ہے۔
التصنيفات
فقہی اور اصولی قواعد