تم میں س کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔

تم میں س کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔

ابو محمد عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں س کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔"

[نووی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔] [یہ حدیث ہمیں کتاب الحُجہ میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔]

الشرح

اللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہيں ہو سکتا، جب تک اس کی محبت اللہ کے رسول ﷺ کے لائے ہوئے اوامر ونواہی کے تابع نہ ہو جائے اور وہ ایسی چیزوں سے محبت نہ کرنے لگے، جن کا آپ نے حکم دیا ہے اور ایسی چیزوں سے نفرت نہ رکھنے لگے، جن سے آپ نے روکا ہے۔

فوائد الحديث

یہ حدیث شریعت کی پیروی کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔

عقل یا عادت کو اپنے اوپر حاوی ہونے دینے اور انھیں اللہ کی لائی ہوئی شریعت پر مقدم رکھنے سے بچنا چاہیے۔ اس حدیث کی رو سے ایسا کرنے والے کے اندر ایمان نہيں ہوتا۔

شریعت کو ہر چيز میں اور ہر جگہ فیصلہ کن ماننا ضروری ہے۔ کیوں کہ آپ کے الفاظ ہیں: "میں جس شریعت کو لیکر آیا"

ایمان نیکی کے کام سے بڑھتا اور گناہ کے کام سے گھٹتا ہے۔